Dargah Hazrat Baba Abdul Samad Shah | Bhikhipur Shareef







 

غوث الوقت حضرت بابا عبد الصمد شاہ تاجی علیہ الرحمہ خلیفہ ارشد حضرت بابا سید محمد تاج الدین تاج الاولیا علیہ الرحمہ کا مختصر تعارف:

Hazrat Baba Abdul Samad Shah
Rahmatullah Alaih
Bhikhipur Shareef


  آپ کی ولادت شعبان1299ھ مطابق2/جولائی 1882ء کو دوشنبہ کےدن، صبح صادق کے وقت بھیکی پور، ضلع امیٹھی میں ہوئی ۔

سلسلہ نسب یہ ہے:

 علی رضا معروف بہ بابا عبد الصمد بن چودھری عابد علی بن چودھری حسین علی بن چودھری حیدر علی بن چودھری ظہر علی بن چودھری فیض علی صدیقی بن شیخ جان محمد بن شیخ خان محمد بن شیخ دوست  محمد بن شیخ محمد حسین بن شیخ محمد ناصر بن شیخ محمد فیروز بن شیخ حشمت اللہ بن شیخ کمال الدین بن قاضی شیخ خیرات علی بن شیخ نظام الدین بن شیخ حسام الدین بن قاضی شیخ بدرالدین ۔

  آپ کے خاندان کے افراد عہد شاہی میں عہدہ نیابت و قضا پر فائز تھے ۔

    آپ کا سلسلہ نسب خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے ملتا ہے ۔

آپ کے جد اعلی حضرت قاضی بدرالدین علیہ الرحمہ اپنے بھائی شیخ شہاب الدین کے ہمراہ جہاد کےلئے حضرت سیدنا سالار مسعود غازی علیہ الرحمہ کے ساتھ ہندوستان تشریف لائے انہونا اور کٹھورا کے علاقے پر قابض ہو کر یہیں سکونت اختیار کر لی ۔

   بابا عبد الصمد علیہ الرحمہ ایک دین دار علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ،ابتدائی تعلیم گھر ہی پر والد گرامی سے حاصل فرمائی اور سات سال کی عمر میں مزید تحصیل علم کے لیے اپنے والد کے پیر و مرشد حضرت شاہ عبداللطیف ستھنوی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے انھیں سے علوم دینیہ کی تکمیل کی اور حافظ عبدالرحمن ستھنوی سے قرآن مجید کے کچھ پارے بھی حفظ کیے۔

   ابتدا ہی سے انتہائی ذہین وفطین تھے ، شاہ صاحب آپ سے بڑی محبت فرما تے تھے، ان کی صحبت نےآپ کو با فیض بنا دیا تھا، بچپن ہی سے آپ میں بزرگی کے آثار نمایاں تھے، شاہ صاحب نےآپ کے والد سے فرمایا تھا کہ'آپ کا یہ بچہ اپنے وقت کا ولی کامل ہوگا ' آپ شاہ صاحب کی خدمت میں 18/ برس رہے

  دینی تعلیم سے فراغت کے بعد فتح پور کے ایک اسکول میں ریاضی حساب وغیرہ کی تعلیم حاصل کی۔کسب معاش کے لیے مخلتف شہروں کا دورہ کیا، بالآخر ناگ پور میں محکمہ پیمائش میں ملازمت اختیار کی اور وہیں تاج الاولیاء حضرت سید محمد بابا تاج الدین علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت نےآپ کو دیکھ کر فرمایا: بہت انتظار کرایا، پھر ایک نگاہ ولایت ڈالی جس نےآپ کی زندگی کی کایہ پلٹ دی اور آپ تاج الاولیاء کے ایسے شیدا ہوئے کہ کچھ دنوں بعد ملازمت چھوڑ دی اور انھیں کی بارگاہ میں رہنے لگے۔دوسال تک ریاضت ومجاہدہ کرانے کے بعد روحانیت وتصرف کے بلند منصب پر فائز کر دیا۔اور بعد میں خرقئہ خلافت اور تبرکات سے نوازا۔

  14/رمضان المبارک 1358ھ مطابق 7/جنوری 1966ء بروز جمعہ، عین خطبہ کے وقت ایک بجے اس دار فانی کو الوداع کہا اور جان جاں آفریں کے سپرد کردی۔آپ کا مزار بھیکی پور، پوسٹ فتح پور ضلع رائے بریلی میں مرجع خاص و عام ہے۔

(ماخوذ از قائد ملت حیات و خدمات)